ماحول دشمن درخت اگانے کی تیاریاں

فارسٹری اور ماحولیات کے ماہر اور مختلف بین الاقوامی تنظیموں میں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹر غلام اکبر نے بتایا کہ یوکلپٹس کو صرف مخصوص حالات اور مخصوص مقامات ہی پر لگا کر اس سے فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے، جس میں سیم زدہ علاقے، ایسے علاقے جہاں پر تودے گرنے کا بہت زیادہ خطرہ ہو، جہاں قریب میں فصلیں کاشت نہ کی جاتی ہوں اور دیگر اقسام کے درخت نہ لگائے جاتے ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے علاقے جہاں پر حیاتیاتی تنوع موجود ہو وہاں پر بھی اس درخت کا لگایا جانا مناسب نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘یوکلپٹس کے پتوں میں معمولی سا زہریلا پن ہوتا ہے جس وجہ سے پرندے وغیرہ اس علاقے میں جانے سے کتراتے ہیں اور اس پر گھونسلے نہیں بناتے، پانی کو بہت تیزی سے اپنی جانب کھینچتا ہے جس وجہ سے فصلوں اور باغات کو نقصاں پہنچاتا ہے۔’ ڈاکٹر غلام اکبر کے مطابق: ‘اگر اس کو سیم اور لینڈ سلائیڈنگ کے علاوہ کسی اور علاقے میں لگایا جائے تو یہ بہت بڑی غلطی ہو گی۔’

انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے شعبۂ ماحولیات کے ماہر پروفیسر ڈاکٹر اسد عفران کی رائے میں بھی اگر یوکلپٹس کو مخصوص حالات اور مقامات کے علاوہ لگایا جائے تو یہ مقامی ماحولیاتی نظام کو نقصاں پہنچاتا ہے، اور اس کا براہِ راست نقصان انسانی معاشرے کو پہنچتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں