مریم نواز کیلئے بڑی مشکل ، نیب نے مخالفت کردی

لاہور(این پی پی) قومی احتساب بیورو ( نیب ) نے چوہدری شوگر ملز کیس سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کی درخواست ضمانت کی مخالفت کردی اور کہا مریم ،نوازشریف ودیگرکیخلاف قانون کےمطابق تحقیقات کررہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق چوہدری شوگر ملز کیس : قومی احتساب بیورو ( نیب ) نے ہائی کورٹ میں جمع کرائے گئے تحریری جواب میں کہا ہے کہ مریم نواز کے خلاف تحقیقات کا آغاز جنوری2018 میں کیا، تحقیقات کا آغاز مشکوک ٹرانزکشنز کی بنیاد پر کیا گیا۔
تحریری جواب میں کہا گیا جنوری 2018 میں مریم نواز پارٹی میں برسراقتدار تھی، مریم ،نوازشریف و دیگر کیخلاف قانون کے مطابق تحقیقات کررہے ہیں، نیب بیورو کے قیام کا مقصد معاشرے سے کرپشن کا خاتمہ ہے ، نیب ملزمان کے خلاف بلا امتیاز کاررروائی کرتا ہے۔
نیب نے جواب میں کہا نیب آرڈیننس کے تحت حکومت سے شکایت ملنے پر تحقیقات ممکن ہیں، چیئرمین نیب کو کرپشن پر تحقیقات کا مکمل اختیار حاصل ہے ، نیب آرڈیننس کی دفعہ 9 سے ایس ای سی پی، کمپنیز ایکٹ کا تعلق نہیں ، دفعہ 9 خصوصی طور پر کرپشن پرلاگو ہوتی ہے۔
مریم نواز کی درخواست ضمانت ، نیب حکام نے اپنا جواب عدالت میں جمع کرادیا.
تحریری جواب میں درخواست ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا میرٹ کی بنیاد پرمریم نواز کی درخواست ضمانت مسترد کی جائے۔
یاد رہے لاہور ہائی کورٹ میں 2رکنی بینچ نے چوہدری شوگرملز کیس میں گرفتار سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کی درخواست ضمانت پر سماعت کی تھی۔
نیب حکام نے درخواست ضمانت پر اپنا جواب عدالت میں جمع کرایا تھا ، جس پر وکیل نے کہا مریم نواز جسمانی ریمانڈ کے بعد جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہیں ، مریم نواز سے جو تفتیش کرنی تھی کی جاچکی ہے ،عدالت نے کہا ہمارے پاس یہ کیس پہلی بار آیا ہے ، نیب کا جواب پڑھ لیں اس کے بعد اس پر بحث کر لیں، ہمیں وقت دیا جائے تاکہ اس جواب کو پڑھ لیا جائے۔
واضح رہے 8 اگست کو نیب نے چوہدری شوگرملز منی لانڈرنگ کیس میں مریم نوا ز کو تفتیش کے لئے بلایا گیا تھا لیکن وہ نیب دفتر میں پیش ہونے کے بجائے والد سے ملنے کوٹ لکھپت جیل چلی گئیں تھیں، تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش نہ ہونے پر نیب ٹیم نے انھیں یوسف عباس کو گرفتار کرلیا تھا۔
نیب کے تفتیشی افسر کی جانب سے عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ مریم نواز، نوازشریف اور شریک ملزموں نے 2000ملین کی منی لانڈرنگ کی، ملزمان کےاثاثے ذرائع آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں