مصباح الحق، قومی ٹیم کے لیے سبز قدم

کراچی (این پی پی) اس میں شبہ نہیں کہ مصباح الحق بطور کپتان قومی ٹیم کے لیے ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں خاصے سبز قدم ثابت ہوئے۔ اُن کے دور کپتانی میں ہمارے کرکٹردفاعی کرکٹ کھیلاکرتے تھے۔ وہ خود بھی ٹُک ٹُک کے ذریعے وکٹ پر قیام کو ترجیح دیتے تھے، مقابلہ جیتنا اُن کا مطمع نظر نہیں ہوتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ دو سو سے زائد ون ڈے انٹرنیشنل میچز کھیلنے کے باوجود وہ ایک سنچری تک نہ جڑ سکے۔ اُلٹا کئی یقینی کامیابیوں کو اُن کی وجہ سے قومی ٹیم کو اپنے ہاتھوں سے گنوانا پڑا۔ البتہ ٹیسٹ کرکٹ میں وہ کامیاب قائد تھے۔ اُن کے دور میں ٹیسٹ فارمیٹ میں قومی ٹیم نے بڑی کامیابیاں سمیٹیں اور اس میں اُن سے زیادہ کردار اُس وقت کے سینئر بلے باز یونس خان کا دکھائی دیتا ہے جو مخالف ٹیموں کے سامنے ہمیشہ ہی سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوئے۔ اُن کے دور میں قومی ٹیم ٹیسٹ کرکٹ کی نمبرون ٹیم بھی بنی۔ نہ جانے کیا سوچ کر پی سی بی نے ایک ایسے کرکٹر کو قومی ٹیم کی باگ ڈور دو کلیدی عہدے (ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹرز) دے کر تھمادی جو اگر انڈیا میں ہوتا تو اُس کا کیریئر ابتدا میں ہی اختتام پذیر ہوچکا ہوتا، لیکن اُس نے یہاں 45 سال کی عمر تک قومی ٹیم کی ناصرف نمائندگی کی بلکہ اُس کا قائد بھی بنا رہا۔ اب اُس کی کارکردگی کا عالم دیکھیے کہ اُس نے سری لنکا کے خلاف ہوم سیریز میں چلے ہوئے کارتوسوں عمر اکمل اور احمد شہزاد کو بھرپور مواقع فراہم کیے، یہ امر قومی ٹیم کے لیے سم قاتل ثابت اس طرح ہوا کہ جو ٹیم مسلسل گیارہ ٹی ٹوئنٹی سیریز میں بڑی بڑی ٹیموں کو اُن کے ملکوں میں دھول چٹا چکی تھی، سری لنکا جیسی نوآموز ٹیم کے ہاتھوں ہوم سیریز میں کلین سویپ کی ہزیمت سے دوچار ہوئی۔ اسی پر بس نہ کیا گیا۔ گیارہ سیریز جتوانے والے کپتان کو فارغ کرکے مصباح نے اپنی اجارہ داری کی جانب بڑھتے ہوئے اپنے من پسند کھلاڑیوں کو آسٹریلیا ایسے مشکل دورے کے لیے منتخب کیا، یہ کارتوس بھی آسٹریلیا میں کارآمد ثابت نہ ہوسکے اور قومی ٹیم پر بھاری بار بنے رہے۔ سوائے افتخار احمد کے کوئی بھی سیریز میں عمدہ کارکردگی پیش نہ کرسکا۔ اگر اسی طرح تجربات کیے جاتے رہے تو قومی ٹیم کا ناصرف ٹی ٹوئنٹی بلکہ کرکٹ کے تمام فارمیٹ میں زوال یقینی ہے۔ اس لیے بورڈ کو قومی ٹیم کی بہتری کے لیے راست اقدامات کرتے ہوئے عصر حاضر کے تقاضوں سے مزین سابق کھلاڑیوں کو قومی ٹیم کی باگ ڈور تھمانی چاہیے، تاکہ کچھ بہتری کی سبیل ہوسکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں