مصباح ، اظہر، وقار کی کارکردگی اور عہدوں پر سوال اُٹھنے لگے

ایڈیلیڈ (این پی پی) ایڈیلیڈ ٹیسٹ میں قومی ٹیم کی ناقص ترین کارکردگی نے تمام پول کھول کے رکھ دیے ہیں۔ مصباح کی چیف سلیکٹری اور ہیڈ کوچنگ قومی ٹیم کے لیے سوہان روح ثابت ہوئی ہے۔ وہ دہرے عہدے رکھنے کے باوجود قومی ٹیم میں کوئی سُدھار نہ لاسکے، بلکہ اس کے برعکس اُس کا ٹی ٹوئنٹی میں ناقابل شکست کا ٹریک ریکارڈ بھی بگاڑ کے رکھ دیا اور اُسے شکستوں کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ وقار یونس کی بولنگ کوچ کی حیثیت پر بھی سوال اُٹھنے لگے ہیں۔ دورۂ آسٹریلیا کے لیے کمزور ترین اسکواڈ کی سلیکشن پر سوالات کی بوچھاڑ ہے۔ کوئی بھی بلے باز کارکردگی کا مظاہرہ نہ کرسکا۔ امام الحق، اظہر علی، محمد رضوان، افتخار احمد، شان مسعود سب ناکام رہے۔ بولرز نے تو اُن سے بھی زیادہ مایوس کیا جو تین وکٹوں کے بدلے دوسرے ٹیسٹ میں 589 رنز کا پہاڑ مخالف بیٹسمینوں کو تحفتاً پیش کرچکے ہیں۔ عالم یہ ہوگیا ہے کہ اب آسٹریلوی ٹیم کے سابق کپتان رکی پونٹنگ، مارک ٹیلر، شین وارن وغیرہ بھی قومی ٹیم کی کارکردگی پر سوال اُٹھانے لگے ہیں۔ اُنہیں اظہر علی کی کپتانی کی بالکل سمجھ نہیں آئی اور وہ سابق کپتان سرفراز کو یاد کرتے دکھائی دیے اور اُن کی توصیف میں زمین آسمان کے قلابے بھی ملائے کہ وہ فائٹر کرکٹر ہیں، جو جیت کے لیے کڑی محنت کرتا ہے۔ دوسری طرف پاکستانی شائقین میں بھی سخت مایوسی پائی جاتی ہے اور وہ آسٹریلیا میں اپنی ٹیم کی دُرگت پر خاصے دل برداشتہ ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ ایک سابق کھلاڑی کے دور حکومت میں قومی ٹیم کی اس دُرگت کی توقع نہ تھی۔ نکھار کے بجائے اُس کی پرفارمنس میں زوال ہی نوٹ کیا جارہا ہے۔ اُنہیں اس کھیل کی بہتری کی طرف توجہ دینا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں