دورۂ آسٹریلیا :ناکامیاں در ناکامیاں

ایڈیلیڈ (این پی پی) پاکستان کرکٹ ٹیم کا دورۂ آسٹریلیا ناکامیوں سے عبارت رہا، ایک بھی کامیابی پاکستان نے مخالف ٹیم کے مقابلے میں حاصل نہ کی، بلکہ ہزیمتوں کے نت نئے ریکارڈ قائم ہوتے چلے گئے۔ جہاں تین میچوں پر مشتمل ٹی ٹوئنٹی سیریز 2-0 سے آسٹریلیا نے اپنے نام کی، وہیں اس سیریز کے آخری مقابلے میں پاکستان کو دس وکٹوں سے ہراکر قومی ٹیم کو وہ داغ دیا جو اس فارمیٹ میں پاکستان نے کبھی سہا نہ تھا، یعنی پاکستان کبھی دس وکٹوں سے ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں ہارا نہ تھا۔ دوسری جانب دونوں ٹیسٹ میچوں میں اننگز کی شکست کے داغ ملے، جو برسوں بھلائے نہ جاسکیں گے۔ پاکستان ٹیم کے بلے بازوں نے خاصا مایوس کیا۔ سوائے بابر اعظم، اسد شفیق، یاسر شاہ بیٹنگ میں کوئی اور ذرا بھی مزاحمت کرتا دکھائی نہ دیا۔کپتان اظہر علی کا بیٹ چلا نہ محمد رضوان کچھ کرسکے، افتخار احمد نے مزاحمت کی اور نہ امام الحق آسٹریلوی راہ میں رُکاوٹ بن سکے۔شان مسعود بھی بجھے بجھے سے رہے، البتہ آخری ٹیسٹ کی آخری اننگز میں ففٹی ضرور بناڈالی۔ حارث سہیل کی غیر ذمے دارانہ بیٹنگ کا ذکر نہ کرنا صحافتی پیشے سے ناانصافی کے مترادف ہوگا کہ وہ تو بالکل ہی کورے بلے باز دکھائی دیے تھے۔ بولرز نے تو بس آسٹریلوی بلے بازوں کو جیسے بلے بازی کی مشقیں ہی کرائیں۔ یہ کیسی ٹیم آسٹریلیا گئی تھی، جس نے شائقین کو مایوسی در مایوسی کی اتھاہ گہرائیوں میں پہنچادیا۔کرکٹ بورڈ کے ارباب اختیار کو پاکستان ٹیم کی بہتری کے لیے سنجیدہ کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔قومی ٹیم کو مزید کسی نام نہاد چیف سلیکٹر، کوچ، بولنگ کوچ، کپتان وغیرہ کے تجربات کی بھینٹ نہ چڑھایا جائے اور اُس کی باگ ڈور ایسے افراد کے سپرد کی جائے جو ملک میں کرکٹ کی بہتری کے لیے سنجیدہ ہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں