پسند ناپسند سے بالاترہوکرپرفارمر کو قومی ٹیم میں شامل کیا جائے

آسٹریلیا نے پاکستان کو دوسرے ٹیسٹ میں ایک اننگز اور 48 رنز سے ہرادیا، یوں 2-0 سے سیریز اُس کے نام رہی اور وائٹ واش کی ہزیمت ایک مرتبہ پھر پاکستان ٹیم کا مقدر بن گئی۔ یاد رہے برسبین ٹیسٹ میں بھی پاکستان کو اننگز کی شکست کا داغ سہنا پڑا تھا۔ ایڈیلیڈ میں کھیلے گئے ڈے اینڈ نائٹ ٹیسٹ میں قومی ٹیم فالو آن کا شکار ہونے کے بعد خود کو اننگز کی شکست سے محفوظ رکھنے میں ناکام رہی اور پوری ٹیم اپنی ٹیسٹ کے چوتھے روز دوسری اننگز میں 239 رنز پر پویلین لوٹ گئی۔ شان مسعود 68 اور اسد شفیق 57 رنز کے ساتھ تھوڑی بہت مزاحمت کرسکے۔ اس سے قبل آسٹریلیا نے اپنی پہلی اننگز میں3 وکٹوں پر 589 رنز کا بھاری بھر کم مجموعہ ترتیب دیا تھا۔ ڈیوڈ وارنر شاندار 335 رنز ناٹ آئوٹ کے ساتھ نمایاں رہے تھے۔ پاکستان ٹیم اپنی پہلی اننگز میں 302 رنز بناکر آئوٹ ہوگئی تھی، جس میں سپنر یاسر شاہ کی شاندار مزاحمتی اننگز 113 رنز کی صورت شامل تھی۔ کم از کم ہمارے بلے باز یاسر شاہ سے ہی کچھ سیکھ لیتے جب کہ بابر اعظم نے 97 رنز کی باری کھیلی تھی۔
ماضی سے اب تک دیکھا جائے تو دورۂ آسٹریلیا کبھی بھی پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیے آسان نہیں رہا اور ہمیشہ ہی اُسے وہاں مشکل پیش آتی ہے، مگر کچھ مقابلوں میں تو جیت مقدر بن ہی جاتی تھی، پر ایسا بھی پہلے کبھی نہیں ہوا کہ بغیر مقابلہ کیے ہی ہتھیار ڈال دیے جائیں۔ یہ روش پاکستان ٹیم کے حالیہ دورے میں دیکھنے میں آئی، جہاں آسٹریلوی ٹیم نے ناصرف قومی ٹیم کو چاروں شانے چت کیا بلکہ بدترین شکستوں کے داغ بھی دیے۔ پہلے قومی ٹیم ٹی ٹوئنٹی سیریز 2-0 سے ہاری، آخری ٹی ٹوئنٹی میں تو 10 وکٹوں کی ہزیمت اُس کا مقدر بنی، اُس کے ساتھ ایسا پہلے کبھی اس طرز کی کرکٹ کی تاریخ میں نہیں ہوا تھا۔ ایسے میں سوال جنم لیتا ہے کہ گیارہ سیریز مسلسل جیتنے والی اور بڑی بڑی ٹیموں کو ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں ناکوں چنے چبوانے والی ٹیم کے ساتھ آخر ایسا کیا ہوگیا کہ وہ پچھلی دو سیریز میں بدترین کھیل پیش کرتی دکھائی دی۔ اس کے بعد ٹیسٹ سیریز میں تو گویا ہمارے بیٹسمین بیٹنگ اور باؤلرز بائولنگ کرنا ہی بھول گئے، جہاں ہمارے بائولرز پورے دن کی گیند بازی کے بعد ایک آدھ وکٹ حاصل کرتے نظر آئے، گویا مخالف بیٹسمینوں کو بلے بازی کی مشق کرارہے ہوں، وہیں ہمارے بیٹسمین مخالف بائولرز کے سامنے بیٹنگ کا سبق بھولتے چلے گئے۔ مجموعی طور پر دونوں ٹیسٹ میچوں میں اسد شفیق، بابر اعظم، یاسر شاہ، محمد رضوان نے پھر بھی کچھ مزاحمت کی جب کہ کپتان اظہر علی، امام الحق، افتخار احمد، حارث سہیل وغیرہ ایسے بیٹنگ کرتے رہے جیسے میدان سے جانے میں عجلت دِکھارہے ہوں۔ دورۂ آسٹریلیا ناکامیوں کے تسلسل کے ساتھ اختتام پذیر ہوا، اب پاکستان کرکٹ بورڈ کو اگلے مقابلوں کے حوالے سے مناسب حکمت عملی ترتیب دینے کی ضرورت ہے کہ جس کے ذریعے قومی ٹیم کے کھیل میں نکھار پیدا ہو اور وہ مخالفین کے لیے ترنوالہ ثابت ہونے کے بجائے انہیں ناکوں چنے چبواسکے۔ خرابیاں کہاں کہاں ہیں، اُن کو تلاش کیا جائے اور دُور کیا جائے، کھلاڑیوں کی خامیوں پر قابو پایا جائے، میرٹ پر ٹیم ارکان کا انتخاب ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ سرفراز احمد فائٹر کھلاڑی اور کپتان تھے، اُنہیں ذاتی پسند ناپسند کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔ اُن کی کپتانی میں قومی ٹیم نے گیارہ مسلسل ٹی ٹوئنٹی سیریز جیتی تھیں، ایک سیریز میں ناکامی کیا ہوئی، اُنہیں بلی کا بکرا بناکر رکھ دیا گیا۔ اگر مصباح یا وقار یونس کو سرفرازپسند نہیں تو یہ اُن کا ذاتی معاملہ تھا، لیکن اس سے قومی ٹیم کو جو نقصان پہنچا، اُس کی تلافی میں برسوں لگیں گے۔اب رواں ماہ سری لنکا کی ٹیم پاکستان آرہی ہے،،ضروری ہے کہ اس سے مقابلے کے لیے متوازن اسکواڈ ترتیب دیا جائے اور پرفارمر کر لازمی مواقع دیے جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں