سسرالیوں کے ہاتھوں بہو کا قتل

کراچی (این پی پی) سائٹ سپر ہائی وے تھانے کی حدود اسکیم 33خادم حسین سولنگی گوٹھ میں سسرالیوں کے ہاتھوں بہو کا قتل

تفصیلات کے مطابق سائٹ سپر ہائی وے تھانے کی حدود اسکیم 33خادم حسین سولنگی گوٹھ میں سسرالیوں نے بہو کو گلا دبا کر قتل کرنے کے بعد پھانسی لگا دی. تفتیشی افسر کا جانبدار رویہ اور ملزمان کی جانب سے دھمکیوں کے باعث مقتولہ کے لواحقین خوف میں مبتلا.
مقتولہ کے اہلخانہ نے این پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا سائٹ سپر ہائی وے تھانے کی حدود خادم گوٹھ میں میری بیٹی کے سسرالیوں نے اسے 7فروری 2020کو قتل کر کے خود کشی کا رنگ دینے کی کوشش کی لیکن میڈیکل رپوٹ میں قتل ظاہر ہو گیا جس پر پولیس نے موقع پر 2ملزمان مقتولہ کے سسر عبدالحکیم اور دیور جمشید کو گرفتار کر کے 4 ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا نامزد ملزمان میں عبدالحکیم ‘جمشید ‘شہباز اور مسماة ممتاز شامل ہیں جبکہ 1ماہ کا عصہ گزر جانے کے باوجود پولیس مفرور ملزمان کو گرفتار کرنے میں مکمل ناکام ہے مقتولہ کے والد نے مزید بتایا کہ تفتیشی افسر ہمارے ساتھ تعاون کرنے کے بجائے ملزمان کی پشت پناہی کر رہا ہے جبکہ مفرور ملزمان کو گرفتار کرنے کے بجائے انٹیرم چلان میں ملزم شہباز کو کیس سے ہی بے دخل کرنے کیلئے لکھا ہے کہ ملزم وقوعہ کے دن کراچی میں موجود ہی نہیں تھا جبکہ میں نے خود اسے اپنی آنکھو ں سے عبدالحکیم کے گھر دیکھا تھا اسکے علاوہ ہم نے تھانے میں جا کر کیس کے 2اہم گواہان کے بیان بھی ریکارڈ کرائے تھے جسکا ذکر بھی مذکورہ چالان میں نہیں کیا گیا عبدالخالق نے مزید بتایا کہ ہیں کیس سے دست بردار ہونے کیلئے سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دیں جا رہی ہیں متاثرہ فیملی نے چیف جسٹس آف پاکستان ‘وزیر اعظم پاکستان ‘وزیر اعلی سندھ ‘گورنر سندھ ‘DGرینجر ز سندھ ‘IGسندھ ‘DIGایسٹ اور SSPانوسٹی گیشن ایسٹ سے پر زور اپیل کی ہے کہ ہمیں تحفظ فراہم کرتے ہوئے میرے بیٹی امبرین قتل کیس کے جانبدار تفتیشی افسر کو تبدیل کر کے کسی غیر جانبدار اور ایماندار افسر سے کیس کی شفاف تحقیقات کروا کر ہمیں انصاف دلوایا جائے.

اپنا تبصرہ بھیجیں