بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بم دھماکہ رحمانیہ مسجد کے اندر ہوا۔ تین افراد ہلاک اور25زخمی

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بم کے ایک دھماکے میں کم ازکم تین افراد ہلاک اور25 زخمی ہوگئے ہیں۔ یہ دھماکہ پشتون آباد کے علاقے میں رحمانیہ مسجد کے اندر ہوا۔  دھماکہ مسجد رحمانیہ کے اندر نماز جمعہ کے خطبے کے دوران ہوا۔

دھماکے کے باعث مسجد میں بھگڈر مچ گئی جبکہ اس کے شیشے ٹوٹ کر صفوں پر بکھر گئے۔ مزید پڑھیے ایک عینی شاہد نادر خان نے بتایا کہ وہ مسجد کے قریب اپنے گھر میں وضو کر رہا تھا کہ زوردار دھماکہ ہوا۔ دھماکے کے فوراً بعد وہ بھاگتا ہوا مسجد پہنچ گیا جہاں لوگ مسجد کے اندر زخمی حالت میں پڑے ہوئے تھے۔ انھوں نے کہا کہ مسجد کے اندر شیشے بھی بکھرے ہوئے تھے جن سے وہ خود بھی زخمی ہو گئے۔

نادر خان کے مطابق انھوں نے دیگر افراد کے ہمراہ زخمی افراد کو سول ہسپتال منتقل کرنا شروع کیا۔ دھماکے کے نتیجے میں ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد کو سول ہسپتال کوئٹہ منتقل کیا گیا۔ سول ہسپتال کوئٹہ کے ترجمان وسیم بیگ نے بتایا کہ پشتون آباد میں مسجد کے اندر ہونے والے دھماکے میں ہلاک ہونے والے دو افراد کی لاشوں کے علاوہ 25 زخمی افراد کو سول ہسپتال منتقل کیا گیا۔

زخمیوں میں تین بچے بھی شامل ہیں جبکہ زخمیوں میں سے تین افراد کی حالت تشویشناک ہے۔ دھماکے میں ہلاک ہونے والے ایک شخص کی شناخت مسجد کے خطیب مولوی عطا الرحمان کے نام سے ہوئی ہے۔

مقامی پولیس کے اہلکار نے بتایا کہ دھماکے کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں تاہم اب تک شواہد سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ دھماکہ خیز مواد مسجد کے اندر نصب تھا۔ پولیس اہلکار نے بتایا کہ تحقیقات کے بعد یہ بتایا جاسکے گا کہ دھماکے ٹارگٹ کون تھا۔

کوئٹہ میں مئی کے مہینے میں ہونے والا یہ دوسرا دھماکہ ہے۔ اس سے قبل سیٹلائیٹ ٹاﺅن کوئٹہ میں 13مئی کو مسجد کے باہر پولیس اہلکاروں کو بم حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ سیٹلائٹ ٹاﺅن میں ہونے والے دھماکے میں چار پولیس اہلکار ہلاک اور 12 افراد زخمی ہوئے تھے۔ بلوچستان میں 2000ءکے بعد سے بم دھماکوں اور اس نوعیت کے بد امنی کے دیگر واقعات کا سلسلہ کمی و بیشی کے ساتھ جاری ہے تاہم سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ ماضی کے مقابلے میں اب کوئٹہ شہر میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری آئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں