پٹرول بم، آخر کب تک؟ ہماری عوام کی بدقسمتی نہیں تو اور کیا ہے

پٹرول بم، آخر کب تک؟
ہمارے عوام کی بدقسمتی نہیں تو اور کیا ہے کہ اُن پر پے درپے پٹرول بم برسائے جارہے ہیں۔ اس بار بھی یہ مشق ستم انتہائی بے دردی کے ساتھ اختیار کی گئی ہے۔ یوں ملکی تاریخ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچ دی گئی ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کی سمری کی منظوری دی۔ اوگرا کی سفارشات پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 8 روپے 90 پیسے تک کا اضافہ کیا گیا۔ پٹرول کی قیمت میں 5 روپے 15 پیسے جب کہ ڈیزل کے نرخ میں 5 روپے 65 پیسے فی لیٹر بڑھوتری کی گئی، پٹرول کی قیمت 117.83 روپے فی لیٹر ہوگئی ہے۔ ڈیزل 132.47 روپے پر پہنچ گیا جب کہ مٹی کے تیل کی قیمت 5 روپے 38 پیسے فی لیٹر اضافے کے بعد 103.84 روپے ہوگئی۔ اوگرا نے گیس کی قیمت بھی بڑھادی، ایل پی جی کی فی کلو قیمت میں ایک روپے 70 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ اضافہ بلاجواز اور عوام کے ساتھ سنگین ناانصافی ہے، اسے کسی طور مناسب قرار نہیں دیا جاسکتا۔ حکومت کا یہ طرز عمل مہنگائی کو کھلی دعوت دینے کے مترادف ہے۔ اس کے نتیجے میں اب عوام کو گرانی کے مزید خطرناک طوفان کا سامنا ہوگا جو پہلے ہی گزشتہ 11 ماہ سے بدترین مہنگائی کا سامنا کررہے ہیں۔ ہر شے کے دام مزید بڑھ جائیں گے، ایسے میں اُن کے لیے روح و جسم کا رشتہ برقرار رکھنا مزید دُشوار ترین ہوجائے گا۔ آمدن تو وہی ہے مگر مہنگائی ہے کہ انتہائی سُرعت سے بڑھتی چلی جارہی ہے۔ ایسے میں وہ کہاں جائیں؟ کون اُن کے درد کا درماں کرے گا۔کس سے منصفی چاہیں، کون ان کا مسیحا بنے گا اور مہنگائی اور غربت کے عذاب سے نجات دلائے گا۔
دوسری طرف دیکھا جائے تو محض تین روز قبل ہی ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں عوام کے درد میں ڈوبی جس حکومت نے روٹی نان کی قیمتوں کو پُرانی سطح پر واپس لانے کے احکامات جاری کیے تھے اور لوگوں کے مصائب میں کمی لانے کا عندیہ دیا تھا، اس ضمن میں دعوے بھی خاصے کیے گئے، اُسی نے اگلے روز ایندھن کی قیمتوں میں ہوش رُبا اضافے کا فیصلہ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے کرلیا۔ اسے حکومت کے قول و فعل کا کھلا تضاد قرار دیا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ اس سے کیونکر عوام کے مصائب و مشکلات کم ہوں گے ،یہ اقدام تو اُن کے لیے سوہان روح سے کم نہیں۔ لوگوں کا درد اپنے دلوں میں محسوس کرنے والے حکمرانوں کا یہ شیوہ ہرگز نہیں ہوتا، وہ اُن کے مفاد میں فیصلے کرتے ہیں، اُن کے لیے سفرِ زیست کو مزید دُشوار نہیں بناتے۔ دوسری طرف عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی واقع ہورہی ہے جب کہ یہاں پچھلے کئی مہینوں سے پٹرولیم مصنوعات کے دام بڑھتے ہی چلے جارہے ہیں۔ خدارا اب تو لوگوں کے درد کو سمجھیں جنہیں بدترین گرانی کی نذر کردیا گیا ہے، اُن کے مصائب میں کمی لانے کی حقیقی کوششیں کریں۔ ضروری ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں ہونے والے اس بلاجواز اضافے کو فی الفور واپس لیا جائے۔ یہاں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عالمی منڈی کے نرخوں کے متوازی ہر صورت لائی جائیں۔ پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں کا تعین کرتے ہوئے پیسوں کا چکر سرے سے ہی ختم کردیا جائے کہ یہاں 5، 10، 25 اور 50 پیسہ کے سکّوں کو متروک ہوئے برسوں بیت گئے، صرف روپوں میں ہی قیمتیں مقرر کی جائیں۔ عوام کے مسائل حل کرنے پر حکومت توجہ دے، اُن کی مشکلات مزید نہ بڑھائے۔ غربت کے خاتمے کے لیے اقدامات کیے جائیں، غریبوں کے خاتمے کی مشق ترک کی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں