طاہرالقادری نے سیاست سے کنارہ کشی کا اعلان کر دیا

پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے سیاست اور سیاسی سرگرمیوں سے کنارہ کشی کا اعلان کر دیا۔

پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ کا ویڈیو کانفرنس کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ہم نے کرپشن کے خلاف عوامی شعور بیدار کرنے میں بھرپور کردار ادا کیا، پارلیمنٹ کا حصہ بن کر سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا، پارلیمنٹ میں سب کچھ ہوتا ہے لیکن عوامی فلاح اور بہبود کے لیے کچھ نہیں ہوتا۔

طاہر القادری نے کہا کہ بدقسمتی سے ہماری سیاست میں غریب اور متوسط طبقے کی کوئی گنجائش نہیں ہے، زیادہ تر ارکان پارلیمنٹ صرف اور صرف اقتدار کے لیے زندہ رہتے ہیں۔

‘دھرنے کے دنوں میں طاہر القادری نے کراچی بند کرنے کیلئے ایم کیو ایم سے مدد مانگی’

سربراہ پاکستان عوامی تحریک نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی شہادتیں تحریک کی جاری جدوجہد کا ایک نتیجہ تھیں، 3 ماہ تک عوامی شعور بیدار کرنے کے لیے اسلام آباد میں دھرنا بھی دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ہماری تحریک کے نتیجے میں وہ لوگ جن پر کوئی ہاتھ نہیں ڈال سکتا تھا انہیں پکڑا گیا، اب نئے لوگوں کا امتحان ہے کہ وہ کس طرح احتساب کے عمل کو آگے بڑھاتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے میں حکومت وقت سے اپیل کرتا ہوں کہ شہدائے ماڈل ٹاؤن کے ورثا کو انصاف دیا جائے، شہدائے ماڈل ٹاؤن کو انصاف دلانےکیلئے ہماری جنگ آخر دم تک جاری رہے گی، حکومت شہدائے ماڈل ٹاون کے حوالے سے کئے گئے وعدے پورے کرے۔

طاہر القادری نے کہا کہ مجھے تصنیف وتالیف کے بے پناہ کام اور صحت کے مسائل ہیں اس لیے پاکستان کی سیاست اور سیاسی سرگرمیوں سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتا ہوں، میں اپنے تمام تر اختیارات سپریم کونسل کو دے رہا ہوں۔

سانحہ ماڈل ٹاؤن کا پس منظر

یاد رہے کہ 17 جون 2014 کو لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کی رہائش گاہ کے سامنے قائم تجاوزات کو ختم کرنے کے لیے پولیس کی جانب سے آپریشن کیا گیا۔

طاہر القادری کا سانحہ ماڈل ٹاؤن پر پاناما طرز کی جے آئی ٹی کا مطالبہ

پی اے ٹی کے کارکنوں کی مزاحمت اور پولیس آپریشن کے نتیجے میں 14 افراد جاں بحق ہوئے جن میں خواتین بھی شامل تھیں جب کہ پولیس کی فائرنگ سے درجنوں افراد زخمی بھی ہوئے۔

پنجاب حکومت کی جانب سے واقعہ کی تحقیقات کے لئے جے آئی ٹی بنائی گئی جس کی رپورٹ بھی منظرعام پر آچکی ہے۔

پاکستان عوامی تحریک نے سانحہ ماڈل ٹاؤن میں انصاف کے لیے مسلم لیگ (ن) کے دورِ حکومت میں اسلام آباد میں دھرنا دیا تھا جب کہ تحریک انصاف نے بھی مبینہ انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کے لیے 126 روز کا دھرنا دیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں