طالبان کے افغانستان میں حملے، امریکا کو اپنی افواج کی فکر مزید بڑ گئی

امریکا نے طالبان کی جانب سے افغانستان کے اداروں، انفراسٹکچر اور عوام پر کیے جانے والے حملوں پر اظہار مذمت کیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز کابل اور افغان صدر اشرف غنی کی انتخابی ریلی کے قریب طالبان نے علیحدہ علیحدہ حملے کیے تھے جس میں 48 افراد ہلاک اور 80 زخمی ہوئے تھے۔

امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ‘طالبان نے آج ہی کابل میں خودکش دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ہے جس میں 20 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، انہوں نے پروان میں بھی صدارتی امیدوار کی ریلی کے دوران دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ہے جس میں 24 سے زائد افراد ہلاک ہوئے’۔

اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کا کہنا تھا کہ ‘طالبان ملک کے کئی علاقوں میں ہسپتالوں، اسکولوں، گھروں اور بجلی کے ترسیلی نظام پر حملے کر رہے ہیں جس کی وجہ سے افغانستان اندھیروں میں ڈوب گیا ہے اور اسے کئی دیگر چیلنجز کا سامنا ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ان حملوں سے ثابت ہوتا ہے کہ طالبان افغانستان کے اداروں اور عوام کو اہمیت نہیں دیتے ہیں، حقیقی مصالحتی عمل کے لیے طالبان کو اس کے لیے اپنے عزم کا اظہار کرنا ہوگا ناکہ تشدد کی فضا برپا کرکے ملک کا امن بگاڑنا ہوگا’۔

افغان طالبان نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اگر مستقبل میں امن مذاکرات بحال کرنا چاہتے ہیں تو ان کے ‘دروازے کھلے ہیں’۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے طالبان کے مرکزی مذاکرات کار شیر محمد عباس ستانکزئی نے اس پر زور دیا کہ ‘افغانستان میں امن کے لیے مذاکرات ہی واحد راستہ ہے’۔

مرکزی مذاکرات کار نے امریکا کے تحفظات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ طالبان نے کچھ غلط نہیں کیا۔

امریکا کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘انہوں نے ہزاروں طالبان کو ہلاک کردیا لیکن اسی اثنا میں اگر ایک (امریکی) سپاہی مارا جاتا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ اس طرح کا ردعمل ظاہر کریں کیونکہ دونوں جانب سے کوئی جنگ بندی نہیں ہوئی’۔

اپنا تبصرہ بھیجیں